تاریخِ اسلام کے روشن اور درخشاں کرداروں میں حضرت میثم تمّارؑ کا نام ایک ایسی شخصیت کے طور پر محفوظ ہے جس نے حق کی محبت میں اپنی جان تو قربان کر دی مگر اپنے عقیدے، وفاداری اور ایمان پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ آپ رسولِ اکرم ﷺ کے اصحاب میں شمار ہوتے تھے اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے نہایت قریبی، مخلص اور وفادار ساتھی تھے۔
حضرت میثم تمّارؑ کا اصل تعارف ان کی وہ بے مثال محبت ہے جو انہیں حضرت علیؑ سے تھی۔ یہ محبت محض جذباتی وابستگی نہیں تھی بلکہ معرفت، یقین اور اطاعت کا ایسا رشتہ تھا جس نے انہیں تاریخ کا ایک لازوال کردار بنا دیا۔ حضرت علیؑ نے ان کی روحانی تربیت فرمائی اور انہیں ایسے علوم سے آراستہ کیا جن کی گواہی تاریخ کے اوراق آج بھی دیتے ہیں۔
میثم تمّارؑ کوفہ کے بازار میں کھجور فروخت کیا کرتے تھے، اسی نسبت سے انہیں “تمّار” کہا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کھجوروں کے تاجر سے کہیں بڑھ کر حق و صداقت کے پیامبر تھے۔ ان کی زبان پر ہمیشہ ولایتِ علیؑ کا ذکر رہتا اور ان کے دل میں اہلِ بیتؑ کی محبت موجزن رہتی تھی۔
جب ظلم و جبر کا دور آیا اور حق کے نام لیوا لوگوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی گئی تو حضرت میثم تمّارؑ بھی اس آزمائش کا ہدف بنے۔ ابن زیاد نے انہیں حکم دیا کہ علیؑ کی محبت اور فضائل کا ذکر ترک کر دیں، مگر اس مردِ حق نے باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ انہیں شدید اذیتیں دی گئیں، قید کیا گیا اور بالآخر سولی پر چڑھا دیا گیا۔ روایت ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے برسوں پہلے انہیں ان کی شہادت کی کیفیت اور مقام سے آگاہ کر دیا تھا، اور میثمؑ نے اسی پیش گوئی کو صدقِ دل سے قبول کیا۔
سولی پر لٹکائے جانے کے باوجود ان کی زبان حق کے ذکر سے خاموش نہ ہوئی۔ وہ لوگوں کو فضائلِ اہلِ بیتؑ سناتے رہے یہاں تک کہ ظالموں نے ان کی زبان بھی قطع کر دی۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ زبانیں کاٹی جا سکتی ہیں، حق کی آواز نہیں۔
آج جب ہم حضرت میثم تمّارؑ کی یاد مناتے ہیں تو دراصل وفاداری، استقامت اور حق پر ڈٹ جانے کے اس عظیم سبق کو یاد کرتے ہیں جو انہوں نے اپنی زندگی اور اپنی شہادت سے امت کو دیا۔ ان کا کردار ہمیں سکھاتا ہے کہ سچائی کی قیمت اگر جان بھی ہو تو اہلِ یقین اس سودے کو خسارہ نہیں سمجھتے۔
سلام ہو میثم تمّارؑ پر، جنہوں نے سولی کو عزت بخشی، ظلم کے ایوانوں کو للکارا، اور وفا کی ایسی داستان رقم کی جو قیامت تک اہلِ حق کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
**“میثمؑ کی شہادت یہ پیغام دیتی ہے کہ جب دل میں علیؑ کی محبت، حق کی معرفت اور صداقت کا چراغ روشن ہو جائے تو پھر سولی بھی انسان کو جھکا نہیں سکتی